| '29 June 1941' |
|
طلسمِ ہست و بود
|
| گُذر تکلُّفات سے یہ عالمِ شَہُود ہے نظر اُٹھا کہ ہر طرف نمود ہی نمود ہے |
| جو لفظ ہے وہ بے اثر، جو قول ہے وہ بے ثمر عمل کو ترک کرکے تو مُصوّرِ جمود ہے |
| ترا جمود ہے جمودِ کائنات کی دلیل ترے ذوقِ عزم تک طلسمِ ہست و بود ہے |
| ترا یہ دینِ فطرت، اور تو رجوع حسن دَیر بہ ایں سبب تو ارضِ ہند مرجعِ ہنودہے |
| نثارِ نظم خسروی، نظامِ اعتدال پر اسی کی تہہ میں کچھ حقیقتِ زیاں و سودہے |
| ہبوط آشنا ہے جلوہ ابِ ملّتِ جدید تُو نجم مذہبِ قدیم مائلِ صعودہے |
| گُذر کے گوشِ قلب سے سماگئی ہے روح رسا اب اسقدر تری طلاقتِ سُرُود ہے |
| ربابِ بزم عصر کو بھی جس کا انتظار تھا لسان کیف بار پر وہ نغمۂ ۔۔ وجود ہے |
| گراں ہے ملحد زماں کو سجدۂ عبودیت تری جبیں میں آج بھی لطافتِ سجود ہے |
| کھُلے نہیں ہیں تجھپہ کیا رُموُزِ بحرِ معرفت تری نگاہِ دل کی زد میں ساحلِ کشورہے |
| حصارِ نیلگوں کو دیکھکر نہ ڈر کماں اُٹھا ہدف ترے خَدَنگ ہی کا مرکزِ کبود ہے |
|
|
| آسان اردو – جستجو میڈیا طلاقت ۔۔ بیان میں روانی اور تیزی، خوش بیانی، روانی۔ خَدَنگ – چھوٹا تیر، نیزہ ہبوط – نیچَے آنا، صعود کا متضاد کبود – نیلا، آسمانی |
|
|
تاریخی شاعری میں خوش آمدید
Wednesday, April 22, 2009
طلسم ہست و بود
عکس
| '28 June 1941' |
|
عکس
|
| نفس وہ کیا کہ جس میں کچھ فلاح ہے نہ فوزہے نسیمِ دلفروز ہے چمن فروز ہے |
| اگرچہ تاک میں یہاںسپہر کینہ توز ہے مگر کسی کےزیرِ لب دعائے چرخ دوز ہے |
| نظارہ چمن بھی یہاں نظرفروزہے بہارِ محسنِ خزاں، خزاں بہار سوز ہے |
| تری ہی عِشوہ سازیوں کا عکس ہے یہ انجمن نہ نغمہ ہے، نہ نوحہ ہے نہ سازہے نہ سوزہے |
| نہ تبصرہ جمود پر نہ جدّوجہد پر نظر نہ مقتضائے شب ہی کچھ نہ منتہائے روزہے |
| غلط زوال ملّتِ امین دین حق غلط ابھی عروج پر شباب مہر نیمروز ہے |
| یہ ہے جہانِ رنگ و بو، مصوّر اور سست خو مشاہدہ تو کرے تو حسنِ نظر فروزہے |
Saturday, April 18, 2009
پیکر وفا
'12 September 1938' |
| پیکرِ وفا |
نہ میں خدا ہوں، نہ ماسواہوں، نہ فہمِ انساں سے ماوراہوں خود اپنی ہستی کی ابتداء ہوں، خود اپنی ہستی کی انتہاہوں |
| نگارخانے میں آفرینش کے میں حقیقت کا آئینہ ہوں جلال قدرت عیاں ہے مُجھ میں، وہ مظہرِ حسن انَّما ہوں |
| اسی کے درپرجھکی ہوئی پھرجبینِ عجزاپنی دیکھتاہوں صدا 'الستُ بربّکُم' کی میں دل کے کانوں سے سن رہاہوں |
| نفس کے مضراب سے یہاں پھررُبابِ توحید چھیڑتاہوں خموش ہرساز دیکھتا ہوں، خوداپنے ہی راگ سن رہاہوں |
| جلالِ مستقبلِ درخشاں بھی اُن نگاہوں میں ڈھونڈتاہوں مزاج، خلّاقِ دوجہاں کا میں جن نگاہوں سے پاگیاہوں |
| جو مٹ کے بھی اُبھر رہا ہے، جہاں میں وہ پیکرِ وفا ہوں میں اس رسولؐ امم کے صدقے، جسکااک میں بھی نقشِ پا ہوں |
| ملائکہ بھی نظیرمیری، بڑے تجسّس سے ڈھونڈتے ہیں زمیں کی جس سطح مرتفع پر، جہاں ہوں، تنہاکھڑاہواہوں |
| رہینِ صورت مجاز تاکے، مجھے حقیقت کے کان سے سُن میں سازِ ہستی کے زیروبم میں، ازل کی بھولی ہوئی صداہوں |
| نظراُچٹتی ہوئی، علوئے دماغِ حاضر پہ کرنے والو مجھے بھی دیکھو کہ میں کمالاتِ دانش ودیں کا منتہاہوں |
| رہِ محالات کے خم و پیچ میں، رہی جتنی دیر دنیا بس اتنے وقفے کی تربیت میں، فضائے امکاں پہ چھاگیا ہوں |
| نظامِ اعصار کی رگوںمیں، مرا لہو موجزن رہا ہے میں انقلابِ اُمم کے چہرے پہ رنگِ خوں بنکے رونما ہوں |
| نشاطِ غم، عیشِ کامرانی بھی مجکو حسرت سے تک رہے ہیں جہانِ بیم و رجاء کی حدسے، میں دور اتنا نکل چکا ہوں |
| نوا بھی ہے سازگار دیکھو، یہ جبرمیں اختیار دیکھو جہاں کی صبرآزما فضاء میں، ہرایک ذرہّ کا ہمنواہوں |
| کبھی جو اسمِ جمیل اس کا زبانِ دل سے ادا ہوا تھا میں دل کی پہنائیوں میں اب تک اُسی کی آواز سُن رہا ہوں |
| یہ تن بھی اسکا، یہ جاں بھی اسکی، یہ کل مری کائنات اسکی خدا نہ وہ دن دکھائے مجکو، کہ اپنی ہستی کا میں خدا ہوں |
|
|
| آسان اردو – جستجو میڈیا مجاز - صفت ذاتی واحد . ۔[علم معانی ] وہ کلمہ یا لفظ یا صورت اظہار جو اپنے حقیقی معنی کے علاوہ کسی اور معنی میں مستعمل ہو اور دونوں معنوں میں تشبیہ کا یا اور کسی قسم کا تعلق ہو، کسی شے یا حقیقت کا بطور تمثیل، تشبیہ یا بطور استعارہ اظہار۔ . ۔[تصوف ] اصطلاح میں حقائق اشیائے کونی کو مجاز کہتے ہیں، واضح ہو کہ وجود انسان میں مثلاً جو کچھ کہ جواہر اور اعراض موجود ہیں وہ ظہوریت اسمائے الٰہی ہیں۔ |
مدارج ہستی
| مدارج ہستی |
جہاں کو ہے اشتیاق جسکا، وہ محوِ دیدارِ مصطفٰی ہوں مری حقیقت پہ بھی نظر کر، کہ مصدرِ نورِ کبریا ہوں |
ریاضی ہستی کے ذرّہ، ذرّہ میں رنگِ عرفاں ہی دیکھتا ہوں بس اکِ ادائے جمالِ رنگینِ معرفت سے نکھرگیا ہوں |
یہ سوزِ ایماں کا حُسن دیکھو، فناکے شعلوں سےکھیلتاہوں اجل بھی خود جسکی پاسباں ہے، یہاں وہ پروردۂ قضاہوں |
کہیں میں فطرت کامقتضاہوں، کہیں حقیقت کا مُدّعاہوں کہیں میں اس کا رگاہِ ہستی کے ہر تخیّل سے ماوراہوں |
کہیں میں عیسٰی کا معجزہ ہوں، کہیں زبانِ کلیم ہوں میں کہیں دعائے خلیل ہوں میں، کہیں میں داؤد کی نوا ہوں |
عمؓر کا مجھ میں جلال بھی ہے، تو سوزوسازِ بلاؓل بھی ہے علیؑ کا فضل وکمال بھی ہے، غنؓی و صدؓیق کی ادا ہوں |
کہیں جلالِ سلیم مجھ میں، کہیں جمالِ حسیؓن مجھ میں کہیں میں عنوانِ دلکشی ہوں، کہیں میں تمہیدِ کربلا ہوں |
کہیں جو خالؓد کا عزم ہوں میں، تو عمروبن عاؓص ہوں کہیں میں کہ صاحبِ اقتدار بھی ہوں، سیاستوں سے بھی آشنا ہوں |
کہیں ابونصرِ وقت ہوں میں، توہاں کہیں ابنِ رشد ہونمیں کہیں غزالی کا مُدّعا ہوں، کہیں میں رازی کا منتہاہوں |
کہیں میں چشتی، کہیں فریدی، کہیں جنیدی، و بایزیدی کہیں ہوں مرہونِ شانِ جیلاں، کہیں ائمہ کی اقتداہوں |
ندیم راہِ سلوک بھِی ہوں، نہ صرف مجذوب مجکو جانو کہ بے خبر ہوکے بھی دوعالم کی ہر حقیقت کو جانتا ہوں |
کہیں تو شیخ الرئیس ہوں میں، کہیں افلاطونِ عصر ہونمیں کہیں ارسطو کی جان ہوں میں، کہیں میں لقمانِ باصفاہوں |
تمام خوردوکلانِ یورپ، مری عزیمت کے خوشہ چیں ہیں کہیں تمدّن کا حُسن ہوں میں، کہیں میں پروازِ ارتقا ہوں |
مرےمدارج کا علم تمکو، نہیں تو ہاں پھریہی سمجھ لو نہ میں کسی چیز کی خبر ہوں، نہ میں کسی شے کا مبتدا ہوں |
آسان اردو-جستجو میڈیا کارگاہِ ہستی- دنیا، جہاں
مبتدا - اسم نکرہ - مذکر - واحد ۔[نحو ] جملۂ اسمیہ کے دو حصوں میں سے پہلا جز جس کے متعلق کچھ کہا جائے (دوسرے جز کو خبر کہتے ہیں یعنی مبتدا کے متعلق جو کچھ کہا ہے)۔
|
Friday, April 10, 2009
حکیم عقل
“1 July 1938” |
|
|
| حکیم عقل |
| حکیم عقل و خرد اے کلیم بزم شھود |
| علیم فلسفہء الھام اے رفیقِ وطن |
|
|
| زمینِ غرب کو تیری نوا فنا آموز |
| مکین شرق کو تیری صدا حیات افروز |
|
|
| جدا ہے اہلِ جہاں سے تری صراطِ عمل |
| تری صفائے دل آئینہ دار حُسنِ مِلَلْ |
|
|
| ہوا تھا حالِ سمرنا پہ بیقرار کبھی |
| طرابلس کے شہیدوں پہ اشکبار کبھی |
|
|
| عراق و شام و فلسطیں کا پاسباں تھا کبھی |
| تو قرطبہ کے سواحل پہ رجزخواں تھا کبھی |
|
|
| چڑھائے پھُول عقیدت کے ارضِ بطحا پر |
| تری نگاہ رہی سرزمینِ کعبہ پر |
|
|
| ترے سُرُود پہ دریائے باسفورس صدقے |
| ترے وجود پہ ارضِ طرابلس صدقے |
|
|
| مُدام نِکہت حمرا سے دل فگارِ رہا |
| مآل گلشن اُندلس پہ اشکبار رہا |
|
|
| تجھے خبر نہیں ابتک تری نوائی وطن |
| دمشق و مصر کے کھنڈروں میں بھی ہے لرزہ فگن |
|
|
| رہا مُدام وطن ہی کے غمگُساروں میں |
| بقائے قوم ہے پوشیدہ استعاروں میں |
|
|
| چمن میں ہر لبِ غنچہ سے گلفشاں تو ہے |
| مگر ضمائر فطرت کا رازداں تو ہے |
|
|
| دلونپہ نقش ہے تیری عبارت مُلہَم |
| صریرِ کلک میں پوشیدہ انقلاب اُمم |
|
|
| کفیل قوم ہوئی تیری فلسفہ دانی |
| کہ شمع عقل و خرد کی ہے جلوہ سامانی |
|
|
| حریفِ غرب ہوئی تیری عاقبت بینی |
| وطن میں ڈال دی بُنیاد جنگِ آئینی |
|
|
| مُلُوکیت کے جنوں سے رہی ہے معذوری |
| کہ تو رہا ہے رہینِ اُصولِ جمہوری ۔۔۔ |
|
|
| تری فضا میں ہے یہ گُونج صوتِ رازی سے |
| تری نوا کو شرف نغمہء حجازی سے |
|
|
| تری نظر میں قلندر کا نُور ہے مضطر |
| سُخن میں آتشِ رُومی کا سوز سرتاسر |
|
|
| دیا ہے درس خودی کا وہ تونے اے اقبال |
| کہ عبدیت سے نمایاں ہوئی ہے شانِ جلال |
|
|
| ترے سُخن سے عیاں عزم ہو مردِ ملٹن |
| ثبات ڈنیٹی و ارتفاع ٹینی سن |
|
|
| دیارِ غیر میں یوں قابلِ ستائش ہے |
| ترے وجود پہ خود گوئٹے کو نازش ہے |
|
|
| میں کون ہوں، میں کہاں ہوں، مرا وجود ہے کیا؟ |
| جہانِ شعروسُخن میں مری نَمُود ہے کیا؟ |
|
|
| میں وہ مُصوّر نقش و نگارِ وحدت ہوں |
| کہ دستِ عصر میں لاریب کِلک قدرت ہوں |
|
|
| جہاں میں شاعر اسلام ہے لقب میرا |
| فرشتے ذکر نہیں کرتے بے سبب میرا |
|
|
| مری بقا تو ہے اسلام کی بقا کے لیے |
| لہو ہے وقت مرا مرجع وفا کے لیے |
|
|
| جمالِ ملّتِ اسلام کی ضیا ہوں میں |
| نوید واقعہ دشتِ کربلا ہوں میں |
|
|
| نہیں خیال بلند اپنا مائل پستی |
| سمجھ کہ فرد ہے آفاق میں مری ہستی |
|
|
| مرے ثبات پہ نازاں ہے عزمِ ایّوبی |
| مرے جلال پہ قُربان رزمِ ایّوبی |
|
|
| نوا نواز ہو کیا سازِ مغربی مجھ میں |
| بھرا ہوا ہے غضب سوزِ یثربی مجھ میں |
|
|
| مُجھے عواقبِ فردا سے بے خبر نہ سمجھ |
| مرے پیام کو آہنگ بے اثر نہ سمجھ |
|
|
| نوائے تازہ مری سُن کہ ہوگا آسودہ |
| سنے گا بعد مرے نغمہائے فرسودہ |
|
|
| کہ چِراغ اوج پہ بدر و ہلالِ غرناطہ |
| دکھا رہے ہیں عُروج و زوالِ غرناطہ |
|
|
| ہلالیوں کا پھریرا علم بہ اوج کمال |
| صلیبیوں کا عَلَم سرنگوں بہ حدِّ زوال |
|
|
| بدل رہے ہیں پھر آثارِ خطّہء یوناں |
| حرم کی خاک سے تعمیر ہورہا ہے جہاں |
|
|
| گرائی جائے گی مغرب میں ہر حریم صلیب |
| مٹے گا کعبہ کی حرمت پہ ہر ندیم صلیب |
|
|
| نکھر چکا ہے فلسطیں کا خون گردوں پر |
| گرے گی برْقِ غضب سرنشینِ جیجوں پر |
|
|
| عروس تیغ عقوبت پہ آچکا ہے نکھار |
| ہے دست منتقم دھر میں ردائے شرار |
|
|
| کہ چھانے والی ہے ظلمت فضائے مغرب پر |
| برسنے والی ہے آگ آبنائے مغرب پر |
|
|
| عروجِ مصر بہ دریائے نیل مائل ناز |
| عیاں سوئز کی موجوں سے ارتقائے حجاز |
|
|
| نشیب قرطبہ سے تابہ اوج جبرالٹر |
| عیاں ہے وحدت دریائے اَسوَد و احمر |
|
|
| دیار قدش پہ ہوگا نزول رحمت خاص |
| کہ موجزن رگِ احساس میں ہے خونِ قصاص |
|
|
| کہ کائنات کے ذرّے بہ انکسارِ اتم |
| عروجِ گنبدِ خضراء کی کھارہے ہیں قسم |
|
|
| زعیم امریکہ و ہٹلر و مسولینی |
| کریں گے سب چمنِ مُصطفیٰ کی گُل چینی |
|
|
| مرے کلام کی رفعت سے آشنا ہوجا |
| مرے پیام کی عظمت سے آشنا ہوجا |
|
|
| آسان اردو – جستجو میڈیا |
| کِلْک۔۔مقامی زبان ۔۔ باریک ہنسی کی آواز ۔۔ صریرِ کِلک ۔۔۔ قلم کی ہنسی |
| مُلہم= الہام کی گئی |
| جیجوں=دریاء جیجوں، ماورائے النہر |
| سَر نشین=شہنشاہ، سب سے اوپر بیٹھنے والا |
|
|
|
|