| '30 June 1941' |
|
مصدرِ نکات
|
| محال کا مقام ہے، محلِ ممکنات ہے اگرچہ کرّۂ زمیں اسیرِ شش جہات ہے |
| تری نظر کا مُنتہا تلاطم حیات ہے نہاں اس کے پیچ و خم میں ساحلِ نجات ہے |
| اسی کی روشنی میں جلوہ مشاہدات ہے فقط مرا ضمیر ہی نظرِ کائنات ہے |
| نظر جو ماورائے عالم تعَیُّنات ہے نیاز مند ہوکے بے نیاز شش جہات ہے |
| وہ آنکھ آنکھ ہے، جو ناظرِ صفات و ذات ہے وہ قلب قلب ہے، جو مرکزِ تحیّرات ہے |
| خدا کی دین کے سوا خرد سے اپنی ماورا تجھے کس امر پر یہاں تفاخر حیات ہے |
| کلام پاک کو لگا کے آنکھ سے نظر بڑھا کہ جس کا لفظ لفظ آج مصدرِ نکات ہے |
| رواں ہے نبضِ عصر میں لہو جب اجتہاد کا تو ساکن آج کس لیے رگِ تصرفّات ہے |
| امین دین کو احترام واجب الوپ کا نگاہِ کفر میں تقابل صفات و ذات ہے |
| زبانِ حال کہہ رہی ہے واقعات *ماسبق کمالِ سومنات ہی، زوالِ سومنات ہے |
| مُصوّرؔ رہینِ علو ہومناظر حسیں نثار مری نگاہِ شوق حاصلِ تصوّرات ہے |
|
|
| آسان اردو – جستجو میڈیا اَلُوپ- پوشیدہ، غائب، مجازاً خالقِ دنیا ما سبق – ماضی، جو گزرچکا – *
|
تاریخی شاعری میں خوش آمدید
Wednesday, April 22, 2009
مصدرِ نکات
طلسم ہست و بود
| '29 June 1941' |
|
طلسمِ ہست و بود
|
| گُذر تکلُّفات سے یہ عالمِ شَہُود ہے نظر اُٹھا کہ ہر طرف نمود ہی نمود ہے |
| جو لفظ ہے وہ بے اثر، جو قول ہے وہ بے ثمر عمل کو ترک کرکے تو مُصوّرِ جمود ہے |
| ترا جمود ہے جمودِ کائنات کی دلیل ترے ذوقِ عزم تک طلسمِ ہست و بود ہے |
| ترا یہ دینِ فطرت، اور تو رجوع حسن دَیر بہ ایں سبب تو ارضِ ہند مرجعِ ہنودہے |
| نثارِ نظم خسروی، نظامِ اعتدال پر اسی کی تہہ میں کچھ حقیقتِ زیاں و سودہے |
| ہبوط آشنا ہے جلوہ ابِ ملّتِ جدید تُو نجم مذہبِ قدیم مائلِ صعودہے |
| گُذر کے گوشِ قلب سے سماگئی ہے روح رسا اب اسقدر تری طلاقتِ سُرُود ہے |
| ربابِ بزم عصر کو بھی جس کا انتظار تھا لسان کیف بار پر وہ نغمۂ ۔۔ وجود ہے |
| گراں ہے ملحد زماں کو سجدۂ عبودیت تری جبیں میں آج بھی لطافتِ سجود ہے |
| کھُلے نہیں ہیں تجھپہ کیا رُموُزِ بحرِ معرفت تری نگاہِ دل کی زد میں ساحلِ کشورہے |
| حصارِ نیلگوں کو دیکھکر نہ ڈر کماں اُٹھا ہدف ترے خَدَنگ ہی کا مرکزِ کبود ہے |
|
|
| آسان اردو – جستجو میڈیا طلاقت ۔۔ بیان میں روانی اور تیزی، خوش بیانی، روانی۔ خَدَنگ – چھوٹا تیر، نیزہ ہبوط – نیچَے آنا، صعود کا متضاد کبود – نیلا، آسمانی |
|
|
عکس
| '28 June 1941' |
|
عکس
|
| نفس وہ کیا کہ جس میں کچھ فلاح ہے نہ فوزہے نسیمِ دلفروز ہے چمن فروز ہے |
| اگرچہ تاک میں یہاںسپہر کینہ توز ہے مگر کسی کےزیرِ لب دعائے چرخ دوز ہے |
| نظارہ چمن بھی یہاں نظرفروزہے بہارِ محسنِ خزاں، خزاں بہار سوز ہے |
| تری ہی عِشوہ سازیوں کا عکس ہے یہ انجمن نہ نغمہ ہے، نہ نوحہ ہے نہ سازہے نہ سوزہے |
| نہ تبصرہ جمود پر نہ جدّوجہد پر نظر نہ مقتضائے شب ہی کچھ نہ منتہائے روزہے |
| غلط زوال ملّتِ امین دین حق غلط ابھی عروج پر شباب مہر نیمروز ہے |
| یہ ہے جہانِ رنگ و بو، مصوّر اور سست خو مشاہدہ تو کرے تو حسنِ نظر فروزہے |
نظم مشرق
'4 January 1941' |
|
نظمِ مشرق |
|
|
| نظمِ مشرق دیکھ کر مغرب کو سکتہ ہوگیا جو نہ ممکن تھا وہ ساماں بھی مہیّا ہوگیا |
| محرمِ پرواز ہیں مصر وفلسطین وحجاز ان کی رفتار و ترقی میں اضافہ ہوگیا |
| گوشزد انقلاباتِ اُمم کے واقعات* مسلم بیدارفطرت محوِ فردا ہوگیا |
| ارض مشرق دیکھتی ہے سر سکندرکا علو دیکھکر جس کو مکین غرب شیدا ہوگیا |
| دینِ فطرت کی درخشانی رہیگی تا ابد کفر کی دنیا میں اب ہر سو اندھیراچھاگیا |
| چشمِ ملّت سے جو ٹپکا تھا گہرِ اشکِ حُرّیت وہ بھی آخر زینتِ بزمِ ثُریّا ہوگیا |
| چہرہء مظلوم سے ظاہر ہیں آثارِ حیات نور عشرت ظلمتِ غم سے ہویدا ہوگیا |
| سینہءمفلس سے نکلی تھی اک آہِ مُرتعش بزمِ استعمار کا ہر نقش دھندلا ہوگیا |
| ہاں صلیبی جنگ ہے مرہونِ شمشیرِ ہلال اب امینِ بدر کی ہمّت کا چرچا ہوگیا |
| اب سنا ئی جائیگی رُوحِ حرم کی داستاں ختم ہر افسانہ دَیر و کلیسا ہوگیا |
| ہٹلروچرچل کے جرأت بخش اعلانات سے** مجھپہ آئینہ زوال ملکِ دارا ہوگیا |
| حال کی تاریکیوں میں نورِ مستقبل کہاں داغ دل مرا چراغِ بزمِ فردا ہوگیا |
|
ایڈیٹر کا نوٹ ۔۔** ایک زمانہ ایسا تھا کہ خاصے مسلمان ہٹلر کی پالیسیوں کی تائیدکرتے تھے۔ اس کی ایک وجہ فلسطینیوں کی جدوجہد تھی، اور اس میں وہ ہٹلر، مسولینی، اور جاپان سے مدد کی توقع رکھتے تھے۔ ہندوستان میں سبھاش چندرابوس نے ایسی ہی تائیدی تحریک اتّحادی قوّتوں کے خلاف چلائی۔ فلسطین کے مفتیٔ اعظم حاجی امین الحسینی دوسری جنگ عظیم کے دوران برلن، جرمنی، میں ہٹلر کے مہمان رہے۔
|
| آسان اردو – جستجو میڈیا گوشزد = گوش زد --وہ بات جو سنی جائے، مسموع۔ |
Tuesday, April 21, 2009
وضعء روزگار
| '22 January 1940' |
|
وضعء روزگار
|
| عشوہ گر ہے خزاں بہار کے ساتھ جبرِ گُلچیں ہے اختیار کے ساتھ |
| شکوہ نیرنگیء جہاں کا نہ کر تو بدل وضع روزگار کے ساتھ |
| اپنی رفتار بھی بدل ناداں گردشِ چرخ کج مدار کے ساتھ |
| ذرّہ ذرّہ ہے مائلِ پرواز تو بھی اُڑ گَردِ شہسوار کے ساتھ |
| آ ، ذرا چاندنی میں ماضی کی اپنے احساسِ تابدار کے ساتھ |
| نُورِ امکاں رہے حجاب میں کیوں ہاں چمک، مہرزرنگار کے ساتھ |
| لب پہ مُہرِ سکوت کیا معنی توبھی گا، مُطربِ بہار کے ساتھ |
| رازِ کَون وفَساد بھی سن لے ارتساماتِ کیف بار کے ساتھ |
| صبر کنجی ہے قفلِ قسمت کی کر تلاش اس کو اضطرار کے ساتھ |
| تھم یہاں گرَدِ کارواں بن کر اور بڑھ عزمِ پائدار کے ساتھ |
| جان لے مقصدِ عزیمتِ دل رفعتِ موجِ آبشار کے ساتھ |
| لہر میں تو حیات کی کھوجا نفسِ سرد جُوئبار کے ساتھ |
| تو بھی اے محوِ نغمۂ عشرت اُٹھ مرے دردِ سازگار کے ساتھ |
| ذرّہ، ذرّہ جذبِ عرفاں ہے ڈھونڈھ اُسے حسنِ اعتبار کے ساتھ |
| بے نیازِ صنم کدہ ہوکر سوئے کعبہ ہو خم، وقار کے ساتھ |
| دَیر میں ڈالدے بنائے حرم درسِ تسلیم و انکسار کے ساتھ |
| تری ہستی کا اقتضاء یہ ہے کہ جئے فضلِ کردگار کے ساتھ |
| چیز ہی کیا، سَطوَتِ دنیا وہ اُڑے گی ترے غبارکے ساتھ |
| ہے یہ پیامِ مصّورِؔ وحدت سن لے اک صوتِ بیقرارکے ساتھ |
|
|
| آسان اردو – جستجو میڈیا کون و فساد – تعمیر و تخریب، بناءبگاڑ، تغیر و تبدل،۔ ہستی و نیستی، پست و بود، موجود ہونا اور تباہ ہو جانا۔ جوئبار / جوئے بار – بڑی نہر دَیر – غیرمسلموں کا عبادت خانہ عشوہ --ناز و ادا، غمزہ، کرشمہ۔ مشتبہ بات کرنا؛ (مجازاً) فریب۔ اقتضا – پیچھے چلنا، اتباع، اطاعت۔ سَطوَت – شان، دبدبہ، رعب |
| اردو آرٹیکلز کے خزانہ میں یہ نظم پڑھیے: http://www.urduarticles.com/articles/مولانا-محمد-ابوبکر-مصور-کی-پیامی-اور-تاریخی-شاعری-وضع-ء-روزگار |
Monday, April 20, 2009
د ر س اتحاد
'22 December 1939' |
| درسِ اتّحاد
|
| الطاف کانگریس کے جبتک یہاں رہے ہر قوم پر روا ستمِ آسماں رہے |
انجامِ اقتدار ہے، آنکھوں کے سامنے اب ابتدائے ظلم کے بانی کہاں رہے |
ہاںرہروانِ ملک میں جزگاندھی و پٹیل شاید ہی اب کوئی ہدفِ کارواں رہے |
امبیڈکر بھی ہمدمِ نظمِ وطن ہیں آج وہ بھی سنیں جو لیگ سے دامن کشاں رہے |
بولے تھے چند لفظ تو بولےؔ نے جوش میں مخفی یہ اب حقیقت کبریٰ کہاں رہے |
سیتلواڈ اور تیج بہادر نے یہ کہا یوں مبتلائے جنگ نہ ہندوستاں رہے |
ناقوسِ برہمن بھی سنیں اہلِ بتکدہ لازم ہے مسجدوں میں بھی شورِ اذاں رہے |
یہ اختیار قائداعظم کا دیکھنا ہر طول وعرضِ ہند میں وحدت عیاں رہے |
گھیرے ہوئے ہیں اہلِ وطن یوں جناح کو تاروں میں جیسے ماہِ فلک ضوُ فشِاں رہے |
یہ معترض سیاستِ رخشندہ دیکھ لیں ان کا ہر اک حریف بھی ہمداستاں رہے |
اقوام میں بُلند رہے سرسکندر آج افکارِ فضلِ حق بھی بہت کامراں رہے |
خود لیگ کا نظام ہے مرہونِ چندریگر یہ بھی رہینِ خدمتِ پیروجواں رہے |
یومِ نجات و شکر کے خادم ہوں سُرخرُو ان اک ثباتِ عزم وفا جاوداں رہے |
مذہب سکھا رہا ہے ہمیں درسِ اتّحاد کیوں حُسن فضلِ اہلِ خرد رائگاں رہے |
افسوس ہے نگاہِ زعیمانِ عصر پر پوشیدہ یوں مُصوّرؔ وحدت یہاں رہے |
Sunday, April 19, 2009
ساز قومیت اور تفریق
'16 December 1939' | |
سازِ قومیت اور تفریق | |
سازِ قومیت میں پھر تفریق کا انداز ہے کانگریسی ذہنیت پھر درخورِ آغاز ہے | |
| لکھ رکھیں یہ قول لوحِ دل پہ گاندھی و پٹیل اتِّباعِ دینِ احمد میں بقا کاراز ہے | |
| راج گوپال اور نہرو کا گھمنڈ اچھا نہیں ان کی ملّت ہی مآل کارِ وحدت ساز ہے | |
| ہیں خلاف اسلام کےساورکر و مونجے تو کیا ہاں یہ گونجیگی ضمیرِ قدس کی آوا زہے | |
| معترض دیکھیں یہ معیار جناح نکتہ ور انتہا جس کی سیاسیات کا آغاز ہے | |
| اب فضاؤں میں صدائے اکثریت کچھ نہیں اب اقلیت کے نغموں کا جہاں دمساز ہے | |
| رہروِ باطل یہاں ہے مائل تحت الثریٰ عازم میدانِ حق پھر محرم پرداز ہے | |
| اسقدر مطعون کیوں ہے عاملِ یومِ نجات کچھ نظر اس پر بھی ہو کیا ظلم کا انداز ہے | |
| مقصد زٹلینؔڈ ظاہر ہوگیا آفاق پر یعنی وہ بھی عدوان ملّت پر باز ہے | |
| ہند بھی ترا وطن ہے اے امینِ حُرّیت تو کہ مختارِ حجاز و کابل و شیراز ہے | |
| ہر طرح ترکان مشرق ہیں تری تائید پر یہ غلط ہے کوئی مغرب میں ترا غمّاز ہے | |
| تجھ سے پوشیدہ رہے کیوں جلوۂ حسنِ حرم تو نگاہِ پاسبانِ دَیر میں ممتاز ہے | |
| تری نظروں میں ہے تصویرِ مراعات وطن ہاں یہ نصب العین تیرا قابلِ اعزاز ہے | |
| یہ رفعت کی شعاعیں اور افرنگی دیار اشراکیت کے مسلک پر کسے اب ناز ہے | |
| عکسِ ناقص ہے ترا نازیت و فسطایت یہ بھی تیرے مذہبِ فطرت کا اک اعجاز ہے | |
| ترے ان سجدوں پہ صدقے رفعتیں کونین کی سرنگوں ہوکر بھی تو عالم میں سرافراز ہے | |
| پونچھ لے آنکھوں سے تو اشکِ ندامت پونچھ لے تری خاطر ہے ابتک بابِ رحمت باز ہے | |
| اب نظامِ جبر بچ جائے یہ ممکن ہی نہیں خود مشیّت قوس کے مرکز سے تیرانداز ہے |
Saturday, April 18, 2009
پیکر وفا
'12 September 1938' |
| پیکرِ وفا |
نہ میں خدا ہوں، نہ ماسواہوں، نہ فہمِ انساں سے ماوراہوں خود اپنی ہستی کی ابتداء ہوں، خود اپنی ہستی کی انتہاہوں |
| نگارخانے میں آفرینش کے میں حقیقت کا آئینہ ہوں جلال قدرت عیاں ہے مُجھ میں، وہ مظہرِ حسن انَّما ہوں |
| اسی کے درپرجھکی ہوئی پھرجبینِ عجزاپنی دیکھتاہوں صدا 'الستُ بربّکُم' کی میں دل کے کانوں سے سن رہاہوں |
| نفس کے مضراب سے یہاں پھررُبابِ توحید چھیڑتاہوں خموش ہرساز دیکھتا ہوں، خوداپنے ہی راگ سن رہاہوں |
| جلالِ مستقبلِ درخشاں بھی اُن نگاہوں میں ڈھونڈتاہوں مزاج، خلّاقِ دوجہاں کا میں جن نگاہوں سے پاگیاہوں |
| جو مٹ کے بھی اُبھر رہا ہے، جہاں میں وہ پیکرِ وفا ہوں میں اس رسولؐ امم کے صدقے، جسکااک میں بھی نقشِ پا ہوں |
| ملائکہ بھی نظیرمیری، بڑے تجسّس سے ڈھونڈتے ہیں زمیں کی جس سطح مرتفع پر، جہاں ہوں، تنہاکھڑاہواہوں |
| رہینِ صورت مجاز تاکے، مجھے حقیقت کے کان سے سُن میں سازِ ہستی کے زیروبم میں، ازل کی بھولی ہوئی صداہوں |
| نظراُچٹتی ہوئی، علوئے دماغِ حاضر پہ کرنے والو مجھے بھی دیکھو کہ میں کمالاتِ دانش ودیں کا منتہاہوں |
| رہِ محالات کے خم و پیچ میں، رہی جتنی دیر دنیا بس اتنے وقفے کی تربیت میں، فضائے امکاں پہ چھاگیا ہوں |
| نظامِ اعصار کی رگوںمیں، مرا لہو موجزن رہا ہے میں انقلابِ اُمم کے چہرے پہ رنگِ خوں بنکے رونما ہوں |
| نشاطِ غم، عیشِ کامرانی بھی مجکو حسرت سے تک رہے ہیں جہانِ بیم و رجاء کی حدسے، میں دور اتنا نکل چکا ہوں |
| نوا بھی ہے سازگار دیکھو، یہ جبرمیں اختیار دیکھو جہاں کی صبرآزما فضاء میں، ہرایک ذرہّ کا ہمنواہوں |
| کبھی جو اسمِ جمیل اس کا زبانِ دل سے ادا ہوا تھا میں دل کی پہنائیوں میں اب تک اُسی کی آواز سُن رہا ہوں |
| یہ تن بھی اسکا، یہ جاں بھی اسکی، یہ کل مری کائنات اسکی خدا نہ وہ دن دکھائے مجکو، کہ اپنی ہستی کا میں خدا ہوں |
|
|
| آسان اردو – جستجو میڈیا مجاز - صفت ذاتی واحد . ۔[علم معانی ] وہ کلمہ یا لفظ یا صورت اظہار جو اپنے حقیقی معنی کے علاوہ کسی اور معنی میں مستعمل ہو اور دونوں معنوں میں تشبیہ کا یا اور کسی قسم کا تعلق ہو، کسی شے یا حقیقت کا بطور تمثیل، تشبیہ یا بطور استعارہ اظہار۔ . ۔[تصوف ] اصطلاح میں حقائق اشیائے کونی کو مجاز کہتے ہیں، واضح ہو کہ وجود انسان میں مثلاً جو کچھ کہ جواہر اور اعراض موجود ہیں وہ ظہوریت اسمائے الٰہی ہیں۔ |
مدارج ہستی
| مدارج ہستی |
جہاں کو ہے اشتیاق جسکا، وہ محوِ دیدارِ مصطفٰی ہوں مری حقیقت پہ بھی نظر کر، کہ مصدرِ نورِ کبریا ہوں |
ریاضی ہستی کے ذرّہ، ذرّہ میں رنگِ عرفاں ہی دیکھتا ہوں بس اکِ ادائے جمالِ رنگینِ معرفت سے نکھرگیا ہوں |
یہ سوزِ ایماں کا حُسن دیکھو، فناکے شعلوں سےکھیلتاہوں اجل بھی خود جسکی پاسباں ہے، یہاں وہ پروردۂ قضاہوں |
کہیں میں فطرت کامقتضاہوں، کہیں حقیقت کا مُدّعاہوں کہیں میں اس کا رگاہِ ہستی کے ہر تخیّل سے ماوراہوں |
کہیں میں عیسٰی کا معجزہ ہوں، کہیں زبانِ کلیم ہوں میں کہیں دعائے خلیل ہوں میں، کہیں میں داؤد کی نوا ہوں |
عمؓر کا مجھ میں جلال بھی ہے، تو سوزوسازِ بلاؓل بھی ہے علیؑ کا فضل وکمال بھی ہے، غنؓی و صدؓیق کی ادا ہوں |
کہیں جلالِ سلیم مجھ میں، کہیں جمالِ حسیؓن مجھ میں کہیں میں عنوانِ دلکشی ہوں، کہیں میں تمہیدِ کربلا ہوں |
کہیں جو خالؓد کا عزم ہوں میں، تو عمروبن عاؓص ہوں کہیں میں کہ صاحبِ اقتدار بھی ہوں، سیاستوں سے بھی آشنا ہوں |
کہیں ابونصرِ وقت ہوں میں، توہاں کہیں ابنِ رشد ہونمیں کہیں غزالی کا مُدّعا ہوں، کہیں میں رازی کا منتہاہوں |
کہیں میں چشتی، کہیں فریدی، کہیں جنیدی، و بایزیدی کہیں ہوں مرہونِ شانِ جیلاں، کہیں ائمہ کی اقتداہوں |
ندیم راہِ سلوک بھِی ہوں، نہ صرف مجذوب مجکو جانو کہ بے خبر ہوکے بھی دوعالم کی ہر حقیقت کو جانتا ہوں |
کہیں تو شیخ الرئیس ہوں میں، کہیں افلاطونِ عصر ہونمیں کہیں ارسطو کی جان ہوں میں، کہیں میں لقمانِ باصفاہوں |
تمام خوردوکلانِ یورپ، مری عزیمت کے خوشہ چیں ہیں کہیں تمدّن کا حُسن ہوں میں، کہیں میں پروازِ ارتقا ہوں |
مرےمدارج کا علم تمکو، نہیں تو ہاں پھریہی سمجھ لو نہ میں کسی چیز کی خبر ہوں، نہ میں کسی شے کا مبتدا ہوں |
آسان اردو-جستجو میڈیا کارگاہِ ہستی- دنیا، جہاں
مبتدا - اسم نکرہ - مذکر - واحد ۔[نحو ] جملۂ اسمیہ کے دو حصوں میں سے پہلا جز جس کے متعلق کچھ کہا جائے (دوسرے جز کو خبر کہتے ہیں یعنی مبتدا کے متعلق جو کچھ کہا ہے)۔
|